ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار :گرام پنچایت انتخابات میں برائے نام شرکت سے بیزار دیہی عوام نے کیا الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ

کاروار :گرام پنچایت انتخابات میں برائے نام شرکت سے بیزار دیہی عوام نے کیا الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ

Wed, 09 Dec 2020 19:07:02    S.O. News Service

کاروار:9؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) برائے نام انتخابات منعقد کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو الیکشن میں حصہ داری کا موقع فراہم نہ کرنا اور وارڈ کی ترقی کو نظر انداز کئے جانے سے کاروار تعلقہ وئیل واڑا گرام پنچایت کے عوام نے گرام پنچایت الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

وئیل واڑا گرام پنچایت برائے نام ہے، دیہات کے پانچ علاقوں کے لئے صرف ایک ممبرکو موقع دیا گیا ہے، بقیہ تین نشستیں پڑوس کے سِدّر کو دئیے گئے ہیں، ایک نشست کھارگے جوگ کو دیاگیا ہے، ویسے وئیل واڑا علاقے میں آنے والے مانڈے بھولا(جو  فوجیوں کا دیہات   کے  نام سے معروف ہے )، پاکلے شیٹا، بڈجوگ ، وئیل واڑا، سکل واڑا، امبیڈکر نگر اور املی جوگ کے لئے صرف ایک نشست مختص کی گئی ہے۔ وئیل واڑا حلقہ میں کل 673رائے دہندگان ہیں، گزشتہ ودھان سبھا انتخابات میں 556ووٹروں نے اپنی رائے دہی  کا استعمال کیا تھا۔ 169ووٹروں والے کھارگے جوگ کو صرف ایک ممبر شپ دینے پر عوام میں ناراضگی پارئی جارہی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق دیول مکی حدود کے نائتی ساور میں 421 ووٹرس ہیں انہیں دو ممبر دئیے گئےہیں، بیلور میں بھی 420ووٹرس  ہیں وہاں بھی دو ممبر ہیں، دیول مکی میں 513ووٹر وں کے لئے دو ممبر ہیں، قابل غور بات یہ  ہےکہ سب سے زیادہ ووٹرس وائیل واڑا میں ہیں مگر یہاں صرف ایک ممبر کے لئے نشست دی گئی ہے۔عوام سوال کررہے ہیں کہ آخر ہم  انتخابات میں شریک ہوکر کیا کریں گے ایک ہی نشست ہونے کی وجہ سے ہمارے علاقوں میں فنڈ بھی برائے نام ہوتاہے، جس سے علاقہ کی ترقی نہیں ہوپاتی۔ تمام اُمور کو دیکھتے ہوئے  برائے نام ہونے والے الیکشن میں شریک نہ  ہونے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا جائے گا تب تک آئندہ کے کسی بھی انتخابات میں ہم شریک نہیں ہوں گے۔


Share: